نئی دہلی، 25مارچ(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) نیشنل ہیرالڈ معاملے میں ہفتہ کو بی جے پی لیڈر سبرامنیم سوامی کی طرف سے دائر پٹیشن کے معاملے میں مدعا علیہ فریق نے پٹیالہ ہاؤس کورٹ میں جواب داخل کیا۔جواب میں انہوں نے سبرامنیم سوامی کے گواہوں کو بلانے کے مطالبہ کی مخالفت کی گئی۔گزشتہ سماعت کے دوران عدالت نے سبرامنیم سوامی کی گواہوں کی فہرست اور دیگر ثبوت کو منظور کر لیا تھا۔معاملے کی اگلی سماعت 22اپریل کو ہوگی۔پہلے کی سماعت میں عدالت نے سوامی کی اس دلیل کو مسترد کر دیا تھا کہ کانگریس پارٹی اور ایسوسی ایٹڈ جرنل لمیٹڈ (اے جے ایل)کے اکاؤنٹ اور دستاویزات مانگے جائیں۔آپ کو بتا دیں کہ اے جے ایل نیشنل ہیرالڈ اخبار کی ملکیتی کمپنی ہے۔کانگریس نے 26فروری، 2011کو اس کی 90کروڑ روپے کی واجبات کو اپنے ذمے لے لیا تھا، اس کے بعد 5لاکھ روپے سے ینگ انڈین کمپنی بنائی، جس میں سونیا گاندھی اور راہل گاندھی کی 38-38فیصد حصہ داری ہے،باقی کی 24فیصد حصہ داری کانگریس لیڈر موتی لال ووہرا اور آسکر فرنانڈیز کے پاس ہے،اس کے بعد اے جے ایل کے 10-10روپے کے نو کروڑ کے شیئر کی نئی بنائی کمپنی ینگ انڈین کو دے دئے گئے۔اس کے بدلے ینگ کانگریس کا لون چکانا تھا۔9کروڑ شیئر کے ساتھ ینگ انڈین کو اس کمپنی کے 99فیصد شیئر حاصل ہو گئے،اس کے بعد کانگریس پارٹی نے 90کروڑ کا لون بھی معاف کر دیا،یعنی ینگ انڈین کو اے جے ایل کی ملکیت مل گئی۔سبرامنیم سوامی کا الزام ہے کہ یہ سب کچھ دہلی میں بہادر شاہ ظفر مارگ پر واقع ہیرالڈ ہاؤس کی 16سو کروڑ روپے کی بلڈنگ پر قبضہ کرنے کے لئے کیا گیا۔سونیا گاندھی اور راہل گاندھی کے خلاف اپنی درخواست میں سوامی نے لکھا ہے کہ سازش کے تحت ینگ انڈین لمیٹڈ کو اے جے ایل کی جائیداد کا حق دیا گیا ہے۔سوامی کا کہنا ہے کہ ہیرالڈ ہاؤس کو مرکزی حکومت نے اخبار چلانے کے لئے زمین دی تھی، اس لحاظ سے اسے روباری مقصد کے لئے استعمال نہیں کیا جا سکتا،جبکہ گاندھی خاندان نے دلیل دی تھی کہ انہیں بے وجہ پریشان کرنے کے مقصد سے عدالت کے سامنے عرضی لگائی گئی ہے،جن دستاویزات کاسوامی مطالبہ کر رہے ہیں وہ کانگریس پارٹی اور اے جے ایل کے خفیہ دستاویزات ہیں۔یہ دستاویز سوامی کو نہیں دئے جانے چاہئے۔